بنگلورو،27؍مئی(ایس او نیوز) آنے والے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاست میں معلق اسمبلی کے قیام کے امکانات کو ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بی جے پی کو 150سیٹیں ملنا اتنا ہی طے ہے جتناطلوع وغروب آفتاب طے ہے۔ آج بنگلور پریس کلب اور رپورٹرس گلڈ کے زیر اہتمام پریس سے ملئے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ وزیر اعظم مودی کی لہر کرناٹک میں کانگریس کو بہا لے جائے گی۔ اور کانگریس سے آزاد ہندوستان کاخواب کرناٹک میں ضرور پورا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں سدرامیا قیادت والی کانگریس حکومت کی ناکامیوں اور تین سال کے دوران مودی حکومت کی کامیابیوں کو عوام کے سامنے رکھ کر بی جے پی ووٹ طلب کرے گی۔اسی بنیاد پر مشن 150 کو کامیاب بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مودی اور بی جے پی الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ مودی کے برانڈ سے ہی بی جے پی نے اپنی پوزیشن ملک میں مستحکم کی ہے۔ ریاستی بی جے پی میں کسی بھی طرح کی گروپ بندی کی خبروں کو بعید از حقیقت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پارٹی میں چھوٹے موٹے اختلافات ضرور ہیں ، کونسل کے اپوزیشن لیڈر ایشورپا سمیت دیگر لیڈروں نے مل جل کر ریاست میں بی جے پی کو اقتدار پر لانے کا عزم کیا ہے۔ یڈیورپانے کہاکہ ریاست کے چھ اضلاع کادورہ ابھی ابھی انہوں نے مکمل کرلیا ہے، اس دورے کے دوران مقامی اراکین اسمبلی ، سابق اراکین اسمبلی اور دیگر لیڈروں سے تبادلۂ خیال ہوا ہے اور سب پارٹی کو اقتدار پر لانے کے جوش وخروش میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ان پر کرپشن کے جو بھی الزامات ہیں ان تمام میں انہیں کلین چٹ مل چکی ہے، عدالت میں جو معاملات تھے وہ بھی نمٹائے جاچکے ہیں۔ جو چھوٹے موٹے مقدمے ہیں ان میں بھی وہ اپنی قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس لیڈران کے خلاف جس طرح کے سنگین الزامات ہیں اتنے سنگین الزامات ان پر نہیں ہیں۔اس موقع پر یڈیورپانے سدرامیا حکومت کے چار سالہ دور کی ناکامیوں کی فہرست گنائی اور کہاکہ سدرامیانے لوک آیوکتہ جیسے ادارہ کو کمزور کردیا ۔حکومت میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو ہراساں کیاجارہاہے، ریاست میں نظم وضبط کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ خشک سالی سے نمٹنے میں حکومت پوری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ اس موقع پر یڈیورپا نے مرکزی حکومت کی طرف سے لاگو انسداد گؤ کشی قانون کا خیر مقدم کیا۔ بی جے پی کو اقتدار ملنے کی صورت میں 24گھنٹوں کے اندر تمام کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ خشک سالی سے بدحال کسانوں سے زرعی قرضہ جات وصول کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے زبردستی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قرضہ جات کی معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے جولائی کے دوران لاکھوں کسانوں کو بنگلور میںیکجا کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں بھی اگر سدرامیا نے یہ قرضہ جات معاف نہ کئے تو بی جے پی اقتدار سنبھالتے ہی 24گھنٹوں کے اندر کسانوں کے تمام قرضہ جات معاف کردے گی۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کو کم از کم اتنی واقفیت رکھنی چاہئے تھی کہ کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کا فیصلہ ریاستی حکومت کے اختیار میں ہے۔